قَالَ مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ حَمَّادٍ ابْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " صَحِبْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يُصَلِّي الصَّلاةَ كُلَّهَا عَلَى بَعِيرِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةَ، وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً، وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ، إِلا الْمَكْتُوبَةَ وَالْوِتْرِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَنْزِلُ لَهُمَا، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ، وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ»
مجاہد (رح) نقل کرتے ہیں کہ میں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ سفر میں عبداللہ بن عمر (رض) کی رفاقت کی، وہ اپنی تمام نمازیں (نفلی) سواری پر ہی مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے سر کے اشارہ سے ادا کرتے سجدہ میں رکوع کی نسبت زیادہ جھک کر اشارہ کرتے مگر فرض اور وتر کی نمازوں کے لیے سواری سے نیچے اترتے۔ میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح سر کے اشارہ سے نماز ادا فرمایا کرتے تھے اور سجدہ کا اشارہ رکوع سے بنسبت زیادہ جھک کر کرتے تھے۔