أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَفِيفُ بْنُ عَمْرِو السَّهْمِيُّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: «إِنِّي أُصَلِّي، ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الإِمَامَ يُصَلِّي، أَفَأُصَلِّي مَعَهُ» ؟ قَالَ: «نَعَمْ، صَلِّ مَعَهُ، وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَهُ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ أَوْ سَهْمُ جَمْعٍ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَنَأْخُذُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا، أَنْ لا نُعِيدَ صَلاةَ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ، لأَنَّ الْمَغْرِبَ وِتْرٌ، فَلا يَنْبَغِي أَنْ يُصَلِّيَ التَّطَوُّعَ وِتْرًا، وَلا صَلاةَ تَطَوُّعٍ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَكَذَلِكَ الْعَصْرُ عِنْدَنَا، وَهِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
ایک شخص نے ابو ایوب انصاری (رض) سے دریافت کیا کہ اگر میں نماز پڑھ لوں، پھر مسجد میں آؤں اور امام کو نماز میں پاؤں تو کیا میں اس کے ساتھ نماز پڑھ لوں ؟ ابو ایوب (رض) کہنے لگے جی ہاں ! اس کے ساتھ نماز پڑھ لو۔ کیونکہ جو اس طرح کرے اسے جماعت کے ثواب میں سے حصہ ملتا ہے یا اس طرح فرمایا جو ایسے کرے اسے جماعت کے ثواب جیسا ثواب مل جاتا ہے یا جماعت کا ثواب ہے (راوی کو شک ہے کہ مثل کا لفظ فرمایا یا نہیں)
قول محمد (رح) یہ ہے ان تمام کو ہم اختیار کرتے ہیں۔ ابن عمر (رض) کا قول بھی لیتے ہیں کہ ہم مغرب اور صبح کی نماز نہیں لوٹاتے کیونکہ مغرب کی طاق رکعات ہیں اور نفل طاق نہیں ہوتے اور دوسرا یہ کہ صبح کے بعد طلوع آفتاب تک نوافل نہیں اور اسی طرح عصر (کے بعد بہی نفل کی کراہیت بہت سی روایت سے ثابت ہے اور وہ ) بہی ہمارے ہاں یہی حکم رکھتی ہے یعنی مغرب و صبح کی طرح ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔
باب کھانا اور نماز دونوں میں کس کو پہلے انجام دے۔