أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ أَصْنَعُ أَنَا؟ قَالَ: أَخْبِرْنِي، قَالَ: «إِذَا صَلَّيْتُ الْعِشَاءَ صَلَّيْتُ بَعْدَهَا خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَنَامُ فَإِنْ قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ أَصْبَحْتُ أَصْبَحْتُ عَلَى وِتْرٍ»
ابو مرہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس طرح وتر پڑھتے تھے، اس پر وہ خاموش ہوگئے۔ پھر میں نے سوال کیا پھر انھوں نے خاموشی ظاہر فرمائی۔ پہر میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا اگر تو پسند کرتا ہے تو میں تجھے بتلاتا ہوں کہ میں کس طرح کرتا ہوں۔ ابو مرہ کہنے لگے میں نے کہا مجھے بتلائیں تو ابوہریرہ کہنے لگے جب میں عشاء پڑھ لیتا ہوں تو اس کے بعد میں پانچ رکعت پڑھتا ہوں۔ پھر میں سو رہتا ہوں۔ پھر اگر رات کو بیدار ہوجاؤں۔ تو دو دو رکعت پڑھتا ہوں۔ اور اگر صبح کے وقت جاگتا ہوں تو میں وتر کی ٧٧ حالت میں صبح کرتا ہوں (کیونکہ ان کو میں عشاء کے ساتھ ادا کرچکا ہوتا ہوں)