أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّهُ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِمَكَّةَ، وَالسَّمَاءُ مُتَغَيِّمَةٌ فَخَشِيَ الصُّبْحَ، فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ انْكَشَفَ الْغَيْمُ، فَرَأَى عَلَيْهِ لَيْلا، فَشَفَعَ بِسَجْدَةٍ ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، سَجْدَتَيْنِ، فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ نَأْخُذُ، لا نَرَى أَنْ يَشْفَعَ إِلَى الْوِتْرِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ صَلاةِ الْوِتْرِ، وَلَكِنَّهُ يُصَلِّي بَعْدَ وِتْرِهِ مَا أَحَبَّ، وَلا يَنْقُضُ وِتْرَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّه
نافع کہتے ہیں کہ میں مکہ کی رات میں ابن عمر (رض) کے ساتھ تھا اور آسمان ابر آلود تھا۔ عبداللہ نے خطرہ محسوس کیا کہ کہیں صبح نہ ہوگئی ہو۔ تو انھوں نے ایک رکرعت کے ساتھ نماز کو وتر بنایا۔ پھر ( تھوڑی دیر بعد) بادل چھٹ گیا تو عبداللہ نے دیکھا کہ ابھی تو رات باقی ہے۔ پس انھوں نے ایک اور رکعت پڑھ کر نماز جفت کیا ا۔ پھر دو رکعات پڑھتے رہے ۔ پھر جب صبح کے طلوع کا خدشہ ہوا تو ایک رکعت کے ساتھ نماز کو وتر بنالیا۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب الامر بالوتر میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم ابوہریرہ (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں البتہ ہم وتر کی ادائیگی کے بعد اس کو جفت نہیں بناتے۔ لیکن وہ اپنی وتر نماز کے بعد جو نفلی نماز من میں ن يئے وہ ادا ک رے اپنے وتر کو نہ توڑے یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔