أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَوْتَرَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: قَدْ جَاءَ هَذَا الْحَدِيثُ، وَجَاءَ غَيْرُهُ فَأَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا بَلَغَ الْوِتْرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الأَرْضِ، وَهُوَ قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سواری پر وتر ادا کئے۔
قول محمد (رح) ہے ہے : یہ روایت بھی آئی اور اس کے علاوہ روایات بھی وارد ہیں۔ ہمارے ہاں مختار قول یہ ہے کہ نفل نماز جتنی چاہے سواری پر ادا کرے جب وتر تک پہنچے تو اتر کر وتر ادا کرے اور یہی عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عمر (رض) کا قول ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔