أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ كَانَ «يَؤُمُّ يَوْمًا، فَخَرَجَ يَوْمًا لِلصُّبْحِ، فَأَقَامَ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاةَ، فَأَسْكَتَهُ حَتَّى أَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَحَبُّ إِلَيْنَا أَنْ يُوتِرَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ، وَلا يُؤَخِّرَهُ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَإِنْ طَلَعَ قَبْلَ أَنْ يُوتِرَ فَلْيُوتِرْ، وَلا يَتَعَمَّدْ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
امام مالک (رح) کہتے ہیں کہ یحی بن سعید نے خبردی کہ عبادہ بن صامت (رض) لوگوں کو امامت کراتے تھے ایک دن وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو مؤذن نگے نماز فجر کے لیے اقامت شروع کردی۔ آپ نے یاس کو خاموش کرایا یہاں تک کہ وتر ادا کرلیے پھر ان کو جماعت کرائی۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارے ہاں یہ پسندیدہ بات ہے کہ طلوع صبح سے پہلے وتر پڑھے جائیں اور ان کو طلوع فجر تک مؤخر نہ کیا جائے۔ اگر ( کسی عذر کی بناء پر) وتروں کی ادائیگی سے پہلے فجر طلوع ہوگئی تو اس وقت وتر ادا کرلے۔ مگر ایسی حرکت جان بوجھ کر مت کرے۔ ییہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔