أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ كَعْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: «لَوْ كَانَ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ كَانَ أَنْ يُخْسَفَ بِهِ خَيْرًا لَهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: يُكْرَهُ أَنْ يَمُرَّ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْرَأْ مَا اسْتَطَاعَ وَلا يُقَاتِلْهُ، فَإِنْ قَاتَلَهُ كَانَ مَا يَدْخُلُ عَلَيْهِ فِي صَلاتِهِ مِنْ قِتَالِهِ إِيَّاهُ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مَمَرِّ هَذَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى قِتَالَهُ، إِلا مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَلَيْسَتِ الْعَامَّةُ عَلَيْهَا، وَلَكِنَّهَا عَلَى مَا وَصَفْتُ لَكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
عطاء بن یسار رکہتے ہیں کہ کعب الاحبار (رح) کہنے لگے اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لیتا کہ اسے کس قدر گناہ ہوگا تو اسے زمین میں دھنس جانا سامنے گزرنے سے زیادہ بہتر معلوم ہوتا۔ (یہ اثر شاید انھوں نے کبت سابقہ سے لیا ہوگا جن کا ان کو علم تھا)
قول محمد (رح) یہ ہے : نمازی کے آگے سے گزرنا مکروہ ناپسند ہے۔ اگر کوئی گزرنے کی کوشش کرے تو طاقت کے مطابق وہ مدافعت کرے مگر اس سے لڑائی نہ کرے اگر اس سے لڑے گا تو اس کی وجہ سے نماز میں گزرنے والے کے گزرنے سے جو خلل آتا ہے اس سے بڑھ کر خلل واقع ہوگا۔ مچھے تو معلوم نہیں کہ کسی نے لڑائی کی اجازت دی ہو۔ صرف ابو سعید خدر ی کی روایت میں موجود ہے۔ لیکن عام فقہاء اس کو ظاہر پر محمول نہیں کرتے۔ بس اسی حد تک جیسا کہ میں نے بتلایا کہ حتی الامکان ہٹانے کی کوشش کرے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔