أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: " كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلاتِي انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ قِبَلِ شِقِّي الأَيْسَرِ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَنْصَرِفَ عَلَى يَمِينِكَ؟ قُلْتُ: رَأَيْتُكَ وَانْصَرَفْتُ إِلَيْكَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ فَإِنَّ قَائِلا يَقُولُ: انْصَرِفْ عَلَى يَمِينِكَ، فَإِذَا كُنْتَ تُصَلِّي انْصَرِفْ حَيْثُ أَحْبَبْتَ عَلَى يَمِينِكَ، أَوْ يَسَارِكَ، وَيَقُولُ نَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَاجَتِهِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَأْخُذُ، يَنْصَرِفُ الرَّجُلُ إِذَا سَلَّمَ عَلَى أَيِّ شِقِّهِ أَحَبَّ، وَلا بَأْسَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ بِالْخَلاءِ مِنَ الْغَائِطِ، وَالْبَوْلِ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، إِنَّمَا يُكْرَهُ أَنْ يَسْتَقْبِلَ بِذَلِكَ الْقِبْلَةَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز ادا کررہا تھا اس وقت عبداللہ بن عمر (رض) بیت اللہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔ جب میں اپنی نماز مکمل کرچکا تو میں اپنی بائیں طرف سے ان کی طرف پلٹ کر لوٹا تو مجھے فرمانے لگے تم اپنی دائیں جانب کیوں نہیں پھرے۔ میں نے کہا میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف پلٹ آیا۔ عبداللہ فرمانے لگے تم نے درست کیا۔ پھر فرمانے لگے نمبر ١ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تم دائیں یا بائیں جانب جدھ رپسند کرو پھر جاؤ۔ نمبر ٢ پھر فرمانے لگے بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب تم اپنی حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ کی طرف رخ نہ کر رو اور نہ ہی بیت المقدس کی طرف رخ کرو عبداللہ فرمانے لگے میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے قضائے حاجت کرتے دیکھا۔ (یہ روایت امام مالک (رح) نے باب الرخصۃ فی استقبال القبلۃ میں ذکر کی ہے، باب جامع الصلاۃ میں اسے ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم عبداللہ بن عمر (رض) کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد جس جانب چاہے پھر سکتا ہے اور بیت الخلاء میں پیشاب و پاخانہ کے وقت بیت المقدس کی طرف رخ کرنے میں حرج نہیں۔ قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے۔ اور یین امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔