أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ فِيمَنْ أَخْطَأَ الْقِبْلَةَ حَتَّى صَلَّى رَكْعَةً، أَوْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ يُصَلِّي إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ فَلْيَنْحَرِفْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَيُصَلِّي مَا بَقِيَ وَيَعْتَدُّ بِمَا مَضَى، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ مسجد قباء میں لوگ صبح کی نماز میں تھے کہ کوئی آنے والا آیا اور کہنے لگا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آج رات قرآنی آیات اتری ہیں اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ملا ہے۔ پس ان لوگوں نے اسی وقت منہ قبلہ کی طرف کرلیا۔ پہلے ان کا منہ شام کی طرف تھا۔ اب وہ گھوم کر کعبہ کی طرف پھرگئے۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے اباب ما جاء فی القبلۃ میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جو شخص غلطی سے اور طرف نماز پڑھنے لگا یہاں تک کہ اس نے ایک رکعت یا دو رکعت پڑھ لی پھر اس کو معلوم ہوا کہ وہ غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ رہا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ قبلہ کی طرف پھر جائے اور اپنی بقہی نماز ادا کرے ( نئے سرے سے نماز کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی) اس کی گزشتہ نماز شمار کی جائے گی ۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔