أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَكِيمِ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْجُرُفِ، ثُمَّ بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ رَأَى فِي ثَوْبِهِ احْتِلامًا، فَقَالَ: «لَقَدِ احْتَلَمْتُ، وَمَا شَعُرْتُ، وَلَقَدْ سُلِّطَ عَلَيَّ الاحْتِلامُ مُنْذُ وُلِّيتُ أَمْرَ النَّاسِ، ثُمَّ غَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ، وَنَضَحَهُ، ثُمَّ اغْتَسَلَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَنَرَى أَنَّ مَنْ عَلِمَ ذَلِكَ مِمَّنْ صَلَّى خَلْفَ عُمَرَ، فَعَلَيْهِ أَنْ يُعِيدَ الصَّلاةَ كَمَا أَعَادَهَا عُمَرُ، لأَنَّ الإِمَامَ إِذَا فَسَدَتْ صَلاتُهُ، فَسَدَتْ صَلاةُ مَنْ خَلْفَهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جناب عمر (رض) نے صبح کی نماز پڑھائی پھر سوار ہو کر مقام جرف کی طرف جہاں آپ کی زمین تھی تشریف لے گئے پھر سورج طلوع ہوجانے کے بعد آپ نے اپنے کپڑے پر احتلام کا اثر پایا تو فرمانے لگے مجھے تو احتلام ہوا ہے اور مجھے معلوم بہی نہ ہوا اور اس وقت سے مجھ پر احتلام مسلط ہوا ہے اور جب سے لوگوں کے معاملات کے انتظام میں مصروف ہوا ہوں۔ پھر يپ نے اپنے کپڑے پر احتلام کے اثر کو مل کر دھویا پھر غسل فرمایا۔ پھر کھڑے ہوئے اور صبح کی نماز سورج طلوع ہونے کے بعد ادا کی۔ (اس اثر کو امام مالک نے باب اعادہ جنب الصلوۃ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ جس کو یہ علم ہوجائے اسے دوبارہ نماز پڑھنی چاہیے جیسا کہ عمر (رض) نے اس کا اعادہ کیا کیونکہ جب امام کی نماز فا اسد ہوجائے تو مقتدی کی نماز خود فاسد ہوجاتی ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔