hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 288

.

موطأ الامام محمد

288
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ، قَالَ: يَتَقَدَّمُ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ سَجْدَةً وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ [ص:104] وَلَمْ يُصَلُّوا، فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ سَجْدَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، وَلا يُسَلِّمُونَ، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ سَجْدَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الإِمَامُ، وَقَدْ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ سَجْدَةً، بَعْدَ انْصِرَافِ الإِمَامِ، فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّوْا سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَ خَوْفًا هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ، وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا "، قَالَ نَافِعٌ: وَلا أُرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ إِلا حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، رَحِمَهُ اللَّهُ وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ لا يَأْخُذُ بِهِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) عنہما سے جب صلوۃ خوف کے متعلق دریافت کیا جاتا تو وہ فرماتے امام آگے بڑھے اور لوگوں کا ایک گروہ اس کے ساتھ ۔ پس امام ان کو ایک رکعت پڑھائے اور دوسرا گروہ امام اور دشمن کے درمیان رہے اور نماز نہ پڑھے، جب یہ پہلا گروہ ایک رکعت سے فارغ ہوجائے تو وہ دوسرے گروہ کی جگہ چلا جائے جنہوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی اور یہ پہلا گروہ نماز سے سلام نہ پھیر گا (بلکہ ویسے ہی اسلحہ اٹھا کر دشمن کے سامنے چلا جائے) اور دوسرا گروہ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی وہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑہیں پھر امام اپنی نماز سے فارغ ہوجائے ( یعنی سلام پھیرے) اس لیے کہ وہ دو رکعت پڑھ چکا پہر ہر گروہ اپنے لیے ایک ایک رکعت ادا پڑھے، اور یہ رکعت امام کی فراغت کے بعد پڑھیں۔ اس طرح دونوں گروں نے دو دو رکعت پڑھ لی۔ اکر خوف اس سے زیادہ شدید تر ہوجائے تو لوگ کھڑے ہو کر پیدل یا سواری کی حالت میں قبلہ رخ ہوں یا قبلہ رخ نہ ہوں۔ اشارہ سے نماز پڑھیں۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب صلوۃ الخوف میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ امام مالک اس کو اختیار نہیں کرتے (بلکہ دوسری روایت کو لیتے ہیں)