hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 291

.

موطأ الامام محمد

291
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمَرُ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ فِي النَّوْمِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ، أَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ مَعَنَا فِي مَجْلِسِ ابْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو النُّعْمَانِ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّا لَمْ نَسْأَلْهُ، قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلامُ كَمَا قَدْ عُلِّمْتُمْ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: كُلُّ هَذَا حَسَنٌ
ابو مسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سعد بن عبادہ کے ڈیرے پر ہمارے ہاں تشریف لائے۔ بشیر بن سعد (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ پس ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں ؟ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہم نے آرزو کی کہ کاش بشیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال نہ کرتا ( شاید آپ نے اس سوال کو ناپسند فرمایا) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گویا ہوئے تم اس طرح کہو اللہ صلی اے اللہ رحمت بھیج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جس طرح کہ آپ نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم (علیہ السلام) پر اور برکت بھیج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جس طرح کہ تو نے جہاں والوں میں سے آل ابراہیم پر برکت بھیجی بیشک تو لائق تعریف اور بزرگ و برکتر ہے اور سلام اس طرح ہے جیسا کہ تم جانتے ہو۔
ابو مسعود (رض) سے نقل کرنے والے محمد ہیں جو کہ عبداللہ کے بیٹے ہیں یہ عبداللہ وہی صحابی ہیں جن خواب میں اذان تلقین ہوئی، بشیر بن سعد سے مراد نعمان کے والد ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : یہ تمام صیغے درست اور خوب ہیں ( جتنے صیغے مروی ہیں سب درست ہیں) ۔