أَخْبَرَنَا مَالِكٌ بْنُ أَنَسٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ امْرَأَةَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " غَسَّلَتْ أَبَا بَكْرٍ حِينَ تُوُفِّيَ، فَخَرَجَتْ، فَسَأَلَتْ مَنْ حَضَرَهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، وَإِنَّ هَذَا يَوْمٌ شَدِيدُ الْبَرْدِ فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ غُسْلٍ؟ قَالُوا: لا "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ أَنْ تُغَسِّلَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا إِذَا تُوُفِّيَ، وَلا غُسْلَ عَلَى مَنْ غَسَّلَ الْمَيِّتَ وَلا وُضُوءَ إِلا أَنْ يُصِيبَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَيَغْسِلَهُ
عبداللہ بن ابی بکر انصاری سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس نے جو حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بیوی تھیں۔ ان کی وفات پر ان کو غسل دیا۔ پھر باہر نکل کر وہاں موجود مہاجرین سے پوچھا کہ میں روزہ سے ہوں اور شدید سردی بھی ہے۔ پس کیا میرے ذمہ غسل واجب ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں۔
اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب غسل المیت میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اس میں کچھ حرج نہیں کہ عورت اپنے خاوند کو غسل دے جب کہ وہ وفات پاجائے اور میت کو جو غسل دے اس پر غسل لازم نہیں اور نہ ہی وضو لازم ہے۔ البتہ اگر میت کا کچھ پانی جسم کے کسی حصے یا کپڑے کو پہنچے تو اس کو دھوڈالے۔