أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: «الْمَيِّتُ يُقَمَّصُ وَيُؤَزَّرُ، وَيُلَفُّ بِالثَّوْبِ الثَّالِثِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلا ثَوْبٌ وَاحِدٌ كُفِّنَ فِيهِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، الإِزَارُ بِجَعْلِ لِفَافَةٍ مِثْلَ الثَّوْبِ الآخَرِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ يُؤَزَّرَ، وَلا يُعْجِبُنَا أَنْ يَنْقُصَ الْمَيِّتُ فِي كَفَنِهِ مِنْ ثَوْبَيْنِ إِلا مِنْ ضَرُورَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ میت کو اول قمیص پہنائی جائے پھر تہبند اور تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اگر ایک ہی کپڑا میسر ہو تو اسی کو اس کا کفن بنادیا جائے ( اور اس کے دفن کے لیے اور کسی چیز کا انتظار نہ کیا جائے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ازار کو بھی دوسرے کپڑے کی طرح لفافے کے ساتھ استعمال کیا جائے گا یہ ہمیں ازار پہنانے سیزیادہ پٍند ہے اور دو کپڑوں سے میت کے کفن کو کم کرنا ہمیں پسند نہیں ہاں ضرورت کے وقت ایسا کیا جاسکتا ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔