أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ مُعَوِّذِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَقُومُ فِي الْجِنَازَةِ، ثُمَّ يَجْلِسُ بَعْدُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا لا نَرَى الْقِيَامَ لِلْجَنَائِزِ، كَانَ هَذَا شَيْئًا فَتُرِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
علی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازوں کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔ مگر بعد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے رہتے تھے۔ (مؤطا مالک (رح) باب الوقوف للجنائز میں یہ روایت مذکور ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ ہم جنازے کے لیے کھڑا ہونا پسند نہیں کرتے یعنی اس کو مشروعیت باقی نہیں رہی۔ یہ اولا حکم تھا پھر چھوڑ دیا گیا۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔