أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ [ص:111] يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ، فَقَالَ: " أَنَا لَعَمْرِ اللَّهِ أُخْبِرُكَ، أَتْبَعُهَا مِنْ أَهْلِهَا، فَإِذَا وُضِعَتْ كَبَّرْتُ، فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَصَلَّيْتُ عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ، عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا قِرَاءَةَ عَلَى الْجِنَازَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
سعید المقبری (رح) نے ابوہریرہ (رض) سے دریافت کیا کہ آپ نماز جنازہ کس طرح پڑھتے ہیں۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا اللہ کی قسم ! میں تجھے بتاتاہوں۔ میں میت کے گھر والوں سے جنازہ کے ساتھ چلتا ہوں۔ پھر جب اسے نیچے رکھا جاتا ہے۔ تو تکبیر کہتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرتا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) درود شریف پڑھتا ہوں۔ پھر دعا کرتا ہوں اور کہتا ہوں۔ اے اللہ یہ تیرا بندہ تھا اور تیرے بندے کا بیٹا تھا اور تیری بندی کا بیٹا تھا۔ اور یہ اس بات کی شہادت دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ اے اللہ تو اس کے حال کو خوب جانتا ہے۔ اے اللہ ! اکر یہ نیک تھا تو تو اس کی نیی میں اضافہ فرمایا اور اگر یہ گناہ گار تھا تو تو اس کے گناہوں سے درگزر فرما۔ اے اللہ تو ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ فرما۔ اور اس کے بعد ہمیں فتنے میں مبت نہ فرما۔
(اس روایت کو امام مالک نے باب ما یقول المصلی علي الجنازۃ میں ذکر کیا ہے۔ )
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جنازہ میں قراءت نہیں ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔