أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا صُلِّيَ عَلَى عُمَرَ إِلا فِي الْمَسْجِدِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لا يُصَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَذَلِكَ بَلَغَنَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَوْضِعُ الْجِنَازَةِ بِالْمَدِينَةِ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَهُوَ الْمَوْضِعُ الَّذِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ فِيهِ
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) نے فرمایا۔ عمر (رض) کا جنازہ مسجد ہی میں پڑھا گیا ۔ (اس اثر کو باب الصلوۃ علي الجنائز بعد الصبح والعصر میں امام مالک (رح) نے ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ مسجد میں نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ ہمیں ابوہریرہ (رض) سے اسی طرح روایت پہنچی ہے۔ جنازگاہ مدینہ میں مسجد سے الگ تھی۔ اور یہ وہی جگہ تھی جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنازہ پڑھاتے تھے۔
باب کیا میت اٹھانے اور اس کو غسل سے وضو ٹوٹ جاتا ہے