أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا محمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَأْخُذُ بِذَلِكَ إِلا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَإِنَّهُ، كَانَ يَقُولُ: فِيمَا أَخْرَجَتِ الأَرْضُ الْعُشْرُ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ إِنْ كَانَتْ تُشْرَبُ سَيْحًا أَوْ تَسْقِيهَا السَّمَاءُ، وَإِنْ كَانَتْ تُشْرَبُ بِغَرْبٍ أَوْ دَالِيَةٍ فَنِصْفُ عُشْرٍ، وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعَيِّ، وَمُجَاهِدٍ
ابو سعید الخدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ وسق سے کم کھجور میں صدقہ نہیں ہے۔ اور چاندی کے پانچ اوقیہ سے کم میں صدقہ نہیں۔ اور پانچ اونٹ سے کم میں صدقہ یعنی زکوۃ نہیں۔ (اسی رویت کو امام مالک نے باب ما یجب فیہ الزکوۃ میں ذکر فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ امام صاحب (رح) بہی اسی کو اختیار کرتے تھے مکر ایک صورت میں وہ فرماتے جو زمین سے نکلے خواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ بشرطیہ بارانی یا چشمہ سے یا بارش سے سیراب ہوتی ہو تو اس میں عشر ہے۔ اکر وہ زمین ڈول یا رہٹ سے سیراب ہوتی ہو تو اس میں نصف عشر ہے اور یہی ابراہیم نخعی اور مجاہد رحمہا اللہ کا قول ہے۔