أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ «يُحَلِّي بَنَاتَهُ وَجَوَارِيهِ، فَلا يُخْرِجُ مِنْ حُلِيِّهِنَّ الزَّكَاةَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَّا مَا كَانَ مِنْ حُلِيِّ جَوْهَرٍ وَلُؤْلُؤٍ، فَلَيْسَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَأَمَّا مَا كَانَ مِنْ حُلِيِّ ذَهَبٍ، أَوْ فِضَّةٍ، فَفِيهِ الزَّكَاةُ، إِلا أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لِيَتِيمٍ، أَوْ يَتِيمَةٍ لَمْ يَبْلُغَا، فَلا تَكُونُ فِي مَالِهَا زَكَاةٌ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن عمر (رض) اپنی بیٹیوں اور لونڈیوں کو سونے کا زیور پہناتے تھے پھر ان کے زیورات میں سے زکوۃ نہ نکالتے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : جواہرات کی قسم سے جو زیور ہوگا اور اسی طرح موتیوں سے ہوگا اس میں زکوۃ کسی حال میں بھی نہیں ہے۔ البتہ سونے اور چاندی کے زیورات میں زکو وۃ ہے۔ اگر یتیم بچے یا بچی کا زیور ہو جو کہ نابالغ ہوں تو ان کے مال میں زکوۃ نہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔