أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ «يَأْخُذُ عَنِ النَّبَطِ مِنَ الْحِنْطَةِ، وَالزَّيْتِ نِصْفَ الْعُشُرِ، يُرِيدُ أَنْ يُكْثِرَ الْحِمْلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَيَأْخُذُ مِنَ الْقِطَنِيَّةِ الْعُشُرَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِمَّا اخْتَلَفُوا فِيهِ لِلتِّجَارَةِ مِنْ قِطَنِيَّةٍ، أَوْ غَيْرِ قِطَنِيَّةٍ نِصْفُ الْعُشُرِ فِي كُلِّ سَنَةٍ، وَمِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ إِذَا دَخَلُوا أَرْضَ الإِسْلامِ بِأَمَانٍ الْعُشُرُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ، وَكَذَلِكَ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ زِيَادَ بْنَ حُدَيْرٍ، وَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ بَعَثَهُمَا عَلَى عُشُورِ الْكُوفَةِ وَالْبَصْرَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) عن نبطیوں سے گندم اور زیتون میں سے نصف عشر لیا کرتے تھے اور اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ منورہ میں تجارتی اجناس زیادہ سے زیادہ آئیں اور آپ دالوں کی اجناس سے عشر لیتے تھے۔ ( اس اثر کو امام مالک نے باب عشور اہل الذمہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اہل ذمہ جب تجارت کے لیے دار الاسلام میں آمد و رفت کریں تو ان سے دالوں کی اجناس اور دیگر اجناس سے ہر سال میں ایک مرتبہ نصف عشر لیا جائے گا۔ اور اہل حرب جب دار الاسلام میں امام لے کر تجارت کے لیے آئیں تو ان سے تمام اجناس میں عشر وصول کیا جائے گا۔ حضرت عمر (رض) نے جب زیاد بن حدیر اور انس بن مالک کو کوفہ اور بصرہ کے عشرکا نگران بنا کر بھیجا تو انھیں یہی حکم دیا تھا اور امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔