أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَقْطَعَ لِبَلالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ مَعَادِنَ مِنْ مَعَادِنِ الْقَبَلِيَّةِ، وَهُوَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرُعِ، فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ إِلَى الْيَوْمِ لا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلا الزَّكَاةُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: الْحَدِيثُ الْمَعْرُوفُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الرِّكَازُ؟ قَالَ: الْمَالُ الَّذِي خَلَقَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الأَرْضِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي هَذِهِ الْمَعَادِنِ، فَفِيهَا الْخُمُسُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَالْعَامَّةُ مِنْ فُقَهَائِنَا
ربیعہ بن ابی عبد الرحمن اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال بن حارث مزنی (رض) کو قبلیہ کی کانوں میں ایک کان بطور جاگیر عنایت فرمائی۔ یہ قلیہ فرح کی جانب واقع ہے۔ یہ کانیں آج تک قائم ہیں ان سے صرف زکوۃ لی جاتی ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : اس سلسلہ میں مشہور روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا (جس کو ابوہریرہ (رض) نے نے نقل کیا۔ کہ دفینہ میں خسم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا طیا کہ رکاز کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ مال جسے اللہ تعالیٰ نے زمین میں آسمان و زمین کی پیدائش کے دن سے پیدا فرمایا۔ ان کانوں میں خمس ہے۔ اور یہی ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ہمارے عام فقہاء بہی اسی طرح گئے ہیں۔