أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ الْجَبَلِ إِلَى الْيَمَنِ، «فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً» ، فَأُتِيَ بِهَا دُونَ ذَلِكَ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، وَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْ فِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مُعَاذٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ لَيْسَ فِي أَقَلِّ مِنْ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ زَكَاةٌ، فَإِذَا كَانَتْ ثَلاثِينَ فَفِيهَا تَبِيعٌ، أَوْ تَبِيعَةٌ، وَالتَّبِيعُ الْجَذَعُ الْحَوْلِيُّ، إِلَى أَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا مُسِنَّةٌ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَالْعَامَّةِ
طاؤس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ بن جبل (رض) کو یمن کی طرف گورنر بناکر روانہ فرمایا۔ اور ان کو حکم فرمایا کہ ہر تیس گائے بھینسوں میں سے ایک سالہ مونث بچھڑی اور چالیس میں سیایک دو سالہ مونث بچھڑی لی جائے۔ پس ان کے ہاں تیس سے کم تعداد لائی گئی تو انھوں نے اس میں کچھ لینے سے انکار کردیا اور فرمایا۔ کہ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ نہیں سنا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مل کر دریافت کروں گا۔ پس معاذ بن جبل (رض) کے آنے سے پہلے ہی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب صدقۃ البقر میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ تیس سے کم تعداد گائے بھینسوں میں کوئی زکوۃ نہیں۔ جب ان کی تعداد تیس ہوجائے تو اس میں ایک بچھرا یا بچھڑی دی جائے گی۔ ( تبیعہ ایک سال کا بچھڑا) چالیس تک یہی حکم ہے۔ جب چالیس کی تعداد پوری ہوجائے اس میں دو سال کا بچھڑا ہے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔