hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 341

.

موطأ الامام محمد

341
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ لِرَجُلٍ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ تُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ، فَأَهْدَى إِلَى الْغَنِيِّ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِذَا كَانَ لَهُ عَنْهَا غِنًى يَقْدِرُ بِغِنَاهُ عَلَى الْغَزْوِ لَمْ يُسْتَحَبَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا شَيْئًا، وَكَذَلِكَ الْغَارِمُ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَفَاءٌ بِدَيْنِهِ، وَفَضْلٌ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ لَمْ يُسْتَحَبَّ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا شَيْئًا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عطاء بن یسار (رح) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ غنی کے لیے حلال نہیں۔ صرف پانچ اشخاص کے لیے درست ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ (٢) صدقات کا عامل۔ (٣) مقروض۔ (٤) جو شخص اسے اپنے مال کے ساتھ خریدے۔ (٥) وہ شخص جس کا کوئی مسکین ہمسایہ ہو، اس مسکین کو صدقہ دیا جائے اور وہ مسکین غنی کو ہدیہ کردے۔ ( اس روایت کو امام ملک نے بھی مرسلا باب اخذ الصدقۃ و من یجوز لہ اخذہا میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اگر مجاہد کے پاس خود اتنا مال ہو جو اس کو صدقہ سے مستغنی کرنے والا ہو تو پھر اس کو صدقہ لینا اچھا نہیں ہے۔ اسی طرح چٹی بھرنے والے کا قرضہ ادا ہوجانے کے بعد اتنا مال باقی بچ گیا کہ اس میں زکوۃ لاگو ہوسکتی ہے تو اس کو بھی زکوۃ کے مال سے لینا مناسب نہیں ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔