أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَفْطَرَ فِي يَوْمِ رَمَضَانَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ أَمْسَى، أَوْ غَابَتِ الشَّمْسُ "، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: «الْخَطْبُ يَسِيرٌ وَقَدِ اجْتَهَدْنَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: مَنْ أَفْطَرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ، ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهَا لَمْ تَغِبْ لَمْ يَأْكُلْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَلَمْ يَشْرَبْ وَعَلَيْهِ قَضَاؤُهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے رمضان المبارک میں ایک ابر والے دن اس خیال سے روزہ افطار کرلیا کہ شاید شام ہوگئی ہے یا سورج غروب ہو کیا ہے۔ اسی دوران ایک شخص نے آکر کہا اے امیر المؤمنین سورج نکل آیا ہے۔ آپ نے فرمایا ہم نے بہت کوشش کی ہے ؟ معاملہ ( قضاء) آسان ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : جس شخص نے اس خیال سے روزہ افطار کرلیا کہ سورج غروب ہو کیا ۔ پہر اسے معلوم ہوا کہ ابھی غروب نہیں ہوا تو وہ دن کے باقی وقت میں کجہ نہ کھائے گا اور نہ کچھ پیئے : ا۔ اس پر قضاء واجب ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔