hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 39

.

موطأ الامام محمد

39
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُجَبَّرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ رَأَى سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يُدْخِلُ إِصْبَعَهُ فِي أَنْفِهِ، أَوْ إِصْبَعَيْهِ ثُمَّ يُخْرِجُهَا وَفِيهَا شَيْءٌ مِنْ دَمٍ فَيَفْتِلُهُ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلا يَتَوَضَّأُ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ، فَأَمَّا الرُّعَافُ فَإِنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ كَانَ لا يَأْخُذُ بِذَلِكَ، وَيَرَى إِذَا رَعَفَ الرَّجُلُ فِي صَلاتِهِ، أَنْ يَغْسِلَ الدَّمَ وَيَسْتَقْبِلَ الصَّلاةَ، فَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَإِنَّهُ يَقُولُ بِمَا رَوَى مَالِكٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ إِنَّهُ يَنْصَرِفُ فَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَبْنِي عَلَى مَا صَلَّى إِنْ لَمْ يَتَكَلَّمَ، وَهُوَ قَوْلُنَا، وَأَمَّا إِذَا كَثُرَ الرُّعَافُ عَلَى الرَّجُلِ فَكَانَ إِنْ أَوْمَأَ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً، لَمْ يَرْعُفُ وَإِنْ سَجَدَ رَعَفَ، أَوْمَأَ بِرَأْسِهِ إِيمَاءً، وَأَجْزَاهُ، وَإِنْ كَانَ يَرْعُفُ كُلَّ حَالٍ سَجَدَ، وَأَمَّا إِذَا أَدْخَلَ الرَّجُلُ إِصْبَعَهُ فِي أَنْفِهِ، فَأَخْرَجَ عَلَيْهَا شَيْئًا مِنْ دَمٍ، فَهَذَا لا وُضُوءَ فِيهِ لأَنَّهُ غَيْرُ سَائِلٍ، وَلا قَاطِرٍ، وَإِنَّمَا الْوُضُوءُ فِي الدَّمِ، مِمَّا سَالَ أَوْ قَطُرَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ.
عبد الرحمن بن مجبر کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) کو دیکھا کہ (جب ان کی ناک سے خون ہوتا تو ) وہ اپنی ایک انگلی یا دو انگلیان نتھنوں میں داخل کرے کے نماز سے نکل جاتے۔ اس پر اگر خون کا معمولی اثر ہوتا تو اس کو صاف کرتے پھر نماز ادا کرلیتے اور وضو کا اعادہ نہ کرتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ان تمام آثار پر ہمارا عمل ہے۔ امام مالک رحمہ ان آثار کو نہیں لیتے بلکہ فرماتے ہیں کہ جب دوران نماز کسی کو نکسیر آجائے تو وہ خون کو دھو ڈالے اور اپنی نماز کو از سر نو شروع کرے۔ ( البتہ وضو کی حاجت نہیں) باقی امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عمر ر ضی اللہ عنہ اور سعید بن مسیب (رح) نکسیر آنے کی احلت میں لوٹ کر وضو کرتے اور سابقہ نماز پر بناء کرتے تھے۔ اگر اس دوران وہ کلام نہ کرتے۔ ہمارا یہی قول ہے۔ البتہ نماز کے دوران کثرت سے نکسیر کا خون آنے ـلگے تو پھر دیکھا جائے اگر سجد کرنے سی خون جاری ہوتا ہے تو وہ سر کے اشارہ سے نماز ادا کرلے تو نماز ادا ہوجائے گی اور اکر ہر دو حال میں خون یکساں بہتا ہو تو پھر بہر صورت سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرے ( اشارہ سے نماز درست نہ ہوگی) اور اگر آدمی کی نکسیر پھوٹنے کی یہ کیفیت ہوۃ کہ جب وہ اپنی انگلی ناک میں داخل کرے تو اس پر خون کا معمولی نشان پایا جاتا ہے تو ایسی نکسیر سے وضو نہ ٹوٹے گا کیونکہ یہ نہ تو جاری خون ہے اور نہ قطرہ قطرہ ٹپکنے والا ہے۔ وضو فقط اس خون سے لازم ہوتا ہے جو یا تو بہنے والا ہو یا پھر قطرہ قطرہ ٹپکنے والا ہو۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے۔