أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ، فَقَالَ: " مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: مِنْكَ لَعَمْرِي، قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ طَيَّبَتْنِي، قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرْجِعَنَّ فَلَتَغْسِلَنَّهُ "
اسلم بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے کسی خوشبودار چیز کی ہوا پائی جبکہ آپ مقام شجرہ میں تھے۔ آپ نے فرمایا یہ خوشبو کس سے آرہی ہے۔ معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے کہا یہ مجھ سے آتی ہے۔ اے امیر المؤمنین ! پھر امیر المؤمنین (رض) نے فرمایا واللہ ! یہ تمہی سے آتی ہے۔ معاویہ (رض) نے کہ ام حبیبہ (رض) نے مجھے خوشبو لگائی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ جاؤ! اسے دھوڈالو۔ ( اس روایت کو امام مالک نے باب ما جاء فی التطیب فی الحج میں ذکر کیا کیا ہے)