hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 401

.

موطأ الامام محمد

401
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الصَّلْتُ بْنُ زُبَيْدٍ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ وَهُوَ بِالشَّجَرَةِ وَإِلَى جَنْبِهِ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَقَالَ: " مِمَّنْ رِيحُ هَذَا الطِّيبِ؟ قَالَ كَثِيرٌ: مِنِّي، لَبَّدْتُ رَأْسِي وَأَرَدْتُ أَنْ أَحْلِقَ، قَالَ عُمَرُ: فَاذْهَبْ إِلَى شَرَبَةٍ، فَادْلِكْ مِنْهَا رَأْسَكَ حَتَّى تُنَقِّيَهُ، فَفَعَلَ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ ". قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا أَرَى أَنْ يَتَطَيَّبَ الْمُحْرِمُ حِينَ يُرِيدُ الإِحْرَامَ إِلا أَنْ يَتَطَيَّبَ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ بَعْدَ ذَلِكَ، وَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَإِنَّهُ كَانَ لا يَرَى بِهِ بَأْسًا
حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مقام شجرہ میں کسی خوشبو دار چیز کو پایا ان کے پہلے میں کثیرابن صلت تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ یہ خوشبو کس سے آتی ہے۔ کثیر نے کہ کہ یہ مجھ سے آتی ہے۔ کیونکہ میں نے سر پر خوشبو لیپ کی ہے۔ اور چاہتا ہوں کہ حج سے فراغت کے بعد سر منڈواؤں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ کسی پانی کے گڑھے پر جاؤ اور اپنا سر مل کر ( پانی سے) صاف کرد۔ پس کثیر بن صلت نے ایسا ہی کیا۔ شربہ ۔ پانی کا چھوٹا حوض۔ ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ماجاء فی التطیب فی الحج میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ جب محرم احرام کا اردہ کرے اس وقت خوشبو لگانے میں کوئی قباحت نہیں ۔ مگر خوشبو لگائے اور غسل کرے تو یہ مناسب ہے۔ امام ابوحنیفہ تو اس کے لگے رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے۔