أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْقَارِئُ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَهْدَى عَامًا بَدَنَتَيْنِ، إِحْدَاهُمَا بُخْتِيَّةٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، كُلُّ هَدْيِ تَطَوُّعٍ عَطِبَ فِي الطَّرِيقِ صَنَعَ كَمَا صَنَعَ، وَخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهُ، وَلا يُعْجِبُنَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ إِلا مَنْ كَانَ مُحْتَاجًا إِلَيْهِ.
ابو جعفر القاری سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عیاش بن نابی ربیعہ مخزومی نے دو اونٹ قربان کیے ، جن میں ایک بختی تھا۔ (بختی دو کوہان والا اونٹ جو بخت نصر بادشاہ کی طرف منسوب ہے) ۔
(اس اثر کو امام ممالک نے باب ما یجوز من الہدی میں ذکر کیا ہے) ۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم ان سب کو اختیار کرتے ہیں۔ ہر وہ نفلی ہدی جو راستہ میں ہلاکت کو پہنچ جائے۔ تو اس کو ذبح کیا جائے گا اور اس کے اور لوگوں کے درمیان راستہ چھوڑ دیا جائے گا تاکہ وہ اس کو کھالیں اور ہدی کے مالک کا اس میں سے کھالینا ہمیں پسند نہیں۔ البتہ اگر وہ محتاج و مجبور ہو تو کھاسکتا ہے۔