أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ نَذَرَ بَدَنَةً فَإِنَّهُ يُقَلِّدُهَا نَعْلا، وَيُشْعِرُهَا، ثُمَّ يَسُوقُهَا، فَيَنْحَرُهَا عِنْدَ الْبَيْتِ، أَوْ بِمَنًى يَوْمَ النَّحْرِ لَيْسَ لَهُ مَحِلٌّ دُونَ ذَلِكَ، وَمَنْ نَذَرَ جَزُورًا مِنَ الإِبِلِ، أَوِ الْبَقَرِ فَإِنَّهُ يَنْحَرُهَا حَيْثُ شَاءَ» ،
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ غَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِهِ أَنَّهُمْ رَخَّصُوا فِي نَحْرِ الْبَدَنَةِ حَيْثُ شَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْهَدْيُ بِمَكَّةَ لأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ} [المائدة: 95] ، وَلَمْ يَقُلْ ذَلِكَ فِي الْبَدَنَةِ، فَالْبَدَنَةُ حَيْثُ شَاءَ إِلا أَنْ يَنْوِيَ الْحَرَمَ، فَلا يَنْحَرْهَا إِلا فِيهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَس
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر فرماتے ہیں جس نے بدنہ کی نذر مان لی۔ اسے چاہیے کہ وہ اس کے گلے میں جوتے کا قلادہ ڈال دے یا اشعار کرکے اس کو ہانک دے۔ پھر اس کو بیت اللہ پاس ذبح کرے یا منی میں نحر کے دن ذبح کرے۔ اس کے علاوہ اس کی قربانی کی اور کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور جو شخص اونٹوں کی نذر مانے یا گائے کی ندر مانے وہ انھیں جہاں چاہے نحر کرسکتا ہے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : یہ ابن عمر (رض) کا قول ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپ کے دیگر اصحاب سے روایات وارد ہیں کہ انھوں نے بدنہ کو تو ہر جگہ ذبح کی رخصت دی ہے یاور بعض نے کہا ہدی مکہ میں ذبح کی جاسکتی ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہدیا بالغ الکعبۃ ( ہ ٧٧ دی جو کہ کزعبہ تک پہنچے والی ہو) بدنہ کے متعلق یہ نہیں فرمایا۔ بدنہ جہاں چاہے ذبح کرسکتا ہے۔ اگر حرم ہی میں نحر کی نیت کرلے تو پھر حرم ہی میں نحر کرے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ابراہیم نخعی اور مالک بن انس رحمہما اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔