hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 408

.

موطأ الامام محمد

408
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ بَدَنَةٍ جَعَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ سَعِيدٌ: " الْبُدْنُ مِنَ الإِبِلِ، وَمَحِلُّ الْبُدْنِ الْبَيْتُ الْعَتِيقُ إِلا أَنْ تَكُونَ سَمَّتْ مَكَانًا مِنَ الأَرْضِ فَلْتَنْحَرْهَا حَيْثُ سَمَّتْ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ بَدَنَةً فَبَقَرَةٌ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بَقَرَةً فَعَشَرٌ مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنْ لَمْ تَجِدْ بَقَرَةً، فَسَبْعٌ مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَالِمٌ، ثُمَّ جِئْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: الْبُدْنُ مِنَ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ، وَلَهَا أَنْ تَنْحَرَهَا حَيْثُ شَاءَتْ إِلا أَنْ تَنْوِيَ الْحَرَمَ، فَلا تَنْحَرْهَا إِلا فِي الْحَرَمِ وَيَكُونُ هَدْيًا، وَالْبَدَنَةُ مِنَ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ، وَلا تُجْزِئُ عَنْ أَكْثَرِ مِنْ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا.
عمرو بن عبید اللہ انصاری کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب (رح) سے بدنہ کے متعلق دریافت کیا ۔ جس کی نذر ان کی بیوی نے مان رکھی تھی۔ سعید بن المسیب کہنے لگے۔ بدنہ اصل تو اونٹ ہے اور اس کے ذبح کا مقام بیت اللہ ہے۔ البتہ اگر اور کسی جگہ کی نیت کی جائے اس صورت میں اسی جگہ ذبح کرنا چاہیے۔ اگر اونٹ نہ ملے تو ایک گائے اور یہ بھی میسر نہ ہو تو دس بکریاں۔ عمر بن عبید اللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے سالم بن عبداللہ سے دریافت کیا۔ تو انھوں بھی وہی جواب دیا جو سعید بن مسیب نے کہا تھا۔ صرف فریہ تھا کہ گائے نہ ملے تو انھوں نے سات بکریأن بتلائیں پھر میں خارجہ بن زید بن ثابت کے پاس گیا اور ان سے دریافت کیا۔ انھوں نے بھی سالم بن عبداللہ کی طرح کہا پھر میں عبداللہ بن محمد بن علی (رض) عنہم کے پاس گ کیا انھوں نے بھی سالم بن عبداللہ کی طرح جواب دیا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : بدنہ اونٹ یا گائے کو کہتے ہیں۔ اور اس کو جس جگہ چاہے ذبج کرے، مگر جو شخص حرم کی نیت کرے وہ صرف حرم میں قربانی دے۔ اور یہ اس کی طرف سے ” ہدی “ ہوگی اور قربانی اونٹ یا گائے کی ہے۔ جو کہ سات آدمیوں کی طرف سے ایک کافی ہے۔ اس سے زائد کی طرف سے نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔