أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أَوْ عُمَرَ، شَكَّ مُحَمَّدٌ، كَانَ يَقُولُ: «مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً فَضَلَّتْ، أَوْ مَاتَتْ، فَإِنْ كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا، وَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا، فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَمَنِ اضْطُرَّ إِلَى رُكُوبِ بَدَنَتِهِ فَلْيَرْكَبْهَا فَإِنْ نَقَصَهَا ذَلِكَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِمَا نَقَصَهَا وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى
نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر یا عمر فاروق (رض) فرماتے ہیں۔ ( محمد کو نام میں شک ہے) کہ جس نے بدنہ ہدی کے طور پر بھیجا وہ راستہ میں گم ہوگیا یا مر کیا پس اگر اس نے نذر مانی ہوئی تھی تو اس کا بدلہ ( اس طرح کے جانور سے) دے اور اگر وہ نفلی ہدی ہے تو اس کی مرضی ہے خواہ اس کا بدلہ دے یا نہ دے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جو آدمی بدنہ پر سواری کرنے پر مجبور ہوجائے تو وہ اس پر سوار ہوجائے اگر اس طرح جانور میں کوئی نقصان ہوا تو جتنی (قیمت میں کمی آئی) اتنا صدقہ کرے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔