hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 42

.

موطأ الامام محمد

42
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ مَعْمَرٍ التَّيْمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ، فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ؟» فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ، وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ»
مقداد بن اسود (رض) سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب نے مجھے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسئلہ دریافت کرو کہ جب آدمی اپنی بیوی کے قریب جائے اور اس کی مذی نکل جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ مقداد کہتے ہیں کہ مجھے علی کہنے لگے میرے ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی ہے۔ اس لیے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات پوچھتے ہوئے شرماتا ہوں۔ مقدار کہتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہوجائے تو وہ اپنی شرمگاہ کو پانی سے دھو ڈالے پھر نماز کے وضو جیسا وضو کرے۔ امام مالک نے اس روایت کو باب الوضوء من المذی میں ذکر کیا ہے۔