hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 429

.

موطأ الامام محمد

429
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الأَسْوَدِ جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ، وَعُمَرُ يَنْحَرُ بُدْنَهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْطَأْنَا فِي الْعِدَّةِ كُنَّا نُرَى أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اذْهَبْ إِلَى مَكَّةَ فَطُفْ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، أَنْتَ وَمَنْ مَعَكَ وَانْحَرْ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَكَ، ثُمَّ احْلِقُوا، أَوْ قَصِّرُوا، وَارْجَعُوا فَإِذَا كَانَ قَابِلٌ فَحُجُّوا، وَاهْدُوا، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَيَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ، وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعْتُمْ "، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا إِلا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ، لا هَدْيَ عَلَيْهِمْ فِي قَابِلٍ، وَلا صَوْمٍ، وَكَذَلِكَ رَوَى الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الَّذِي يَفُوتُهُ الْحَجُّ؟ فَقَالَ: يَحِلُّ بِعُمْرَةٍ، وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ هَدْيًا، ثُمَّ قَالَ: سَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَكَيْفَ يَكُونُ عَلَيْهِ هَدْيٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَالصِّيَامُ وَهُوَ لَمْ يَتَمَتَّعْ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ؟
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ہبار بن اسود یوم النحر کو يیا جبکہ عمر بن خطاب (رض) اپنی ہدی کو نحر کر رہے تھے۔ پس اس نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! ہم نے گنتی میں غلطی کی۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ آج یوم عرفہ ہے۔ پس حضرت عمر (رض) ع ٧ نہ نے فرمایا ٧ ک ٧ ہ ٧ تم مکہ جاؤ اور تم اور تمہارے ساتھی طواف و سعی کریں اور اگر ہدی تمہارے ساتھ ہے تو اسے نحر کرو۔ پھر سر منڈوا یا بال کترواء اور واپس چلے جاؤ۔ اگلے سال حج کرو اور ہدی دو ۔ جس کو ہدی میسر نہ وہ تین دن کے روزے ایام حج میں رکھے اور سات دن کے روزے اس سے فراغت کے بعد رکھے
(اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ہدی من فاتہ الحج میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔ مگر ایک بات میں اختلاف ہے کہ آئندہ سال اس پر ہدی نہیں اور نہ روزہ ہے اور اسی طرح اعمش نے ابراہیم نخعی اور انھوں نے اسود بن یزید کی سند سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) سے دریافت کیا کہ جس کا حج فوت ہوجائے تو انھوں نے فرمایا وہ عمرہ کے افعال کرکے حلال ہوجائے۔ اور اس پر آئندہ سال حج ہے۔ اور ہدی کا تذکرہ کرتے اگر لازم ہوتی ۔ پھر میں نے زید بن ثابت (رض) سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے اسی طرح فرمایا جس طرح عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اس پر ہدی کس جرح ہوگی پھر اگر وہ ہدی نہ پائی تو اس پر روزے کیسے لازم ہوں گے جبکہ اس نے اشہر حج میں تمتع بھی نہیں کیا ( بلکہ اس کا حج رہ گیا)