اَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «يُقَرِّدُ بَعِيرَهُ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَيَجْعَلُهُ فِي طِينٍ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ بِهِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ربیعہ بن عبداللہ بن ھدیر کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ وہ مقام سقیاء میں اپنے اونٹ کی چیچڑیاں اتار رہے تھے۔ حالانکہ وہ اس وقت حالت احرام میں تھے۔ اور ان چیچڑیوں کو مٹی میں دفن کررہے تھے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا یہی قول ہے۔