أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا غَطْفَانُ بْنُ طَرِيفٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ طَرِيفًا «تَزَوَّجَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِكَاحَهُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: قَدْ جَاءَ فِي هَذَا اخْتِلافٌ، فَأَبْطَلَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ نِكَاحَ الْمُحْرِمِ، وَأَجَازَ أَهْلُ مَكَّةَ وَأَهْلُ الْعِرَاقِ نِكَاحَهُ، وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلا نَعْلَمُ أَحَدًا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَعْلَمَ بِتَزَوُّجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِهَا، فَلا نَرَى بِتَزَوُّجِ الْمُحْرِمِ بَأْسًا وَلَكِنْ لا يُقَبِّلْ، وَلا يَمَسَّ حَتَّى يَحِلَّ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى
ابو غططفان بن طریف المری نے کہا کہ میرے باپ طریف نے حالت احرام میں مکہ مکرمہ میں کا ح کیا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس کا نکاح رد کردیا۔ ( ان دونوں روایات کو امام مالک (رح) نے باب نکاح المحرم میں ذکر فرمایا ہے۔ )
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ اس سلسلہ میں اختلاف وارد ہے۔ (١) اہل مدینہ کا قول یہ ہے کہ نکاح باطل ہے۔ (٢) اہل مکہ اور اہل عراق نے اس نکاح کو جائز قرار دیا ۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے روایت کی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میمونہ بنت الحارث سے احرام کی حالت میں نکاح کیا۔ ہمارے علم کے مطابق ابن عباس (رض) جو کہ میمونہ (رض) کا حقیقی بھانجا ہے اس سے زیادہ اس نکاح کو کون جاننے والا ہوسکتا ہے۔ پس اسی وجہ سے ہم محرم کے نکاح میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ لیکن محرم اس کو نہ بوسہ دے سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے جب تک کہ حلال نہ ہوجائے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔