أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ: أَنَّهُ كَانَ يَرَى الْبَيْتَ يَخْلُو بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ، مَا يَطُوفُ بِهِ أَحَدٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: إِنَّمَا كَانَ يَخْلُو لأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْرَهُونَ الصَّلاةَ تَيْنَكَ السَّاعَتَيْنِ، وَالطَّوَافُ لابُدَّ لَهُ مِنْ صَلاةِ رَكْعَتَيْنِ، فَلا بَأْسَ بِأَنْ يَطُوفَ سَبْعًا، وَلا يُصَلِّيَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَتَبْيَضَّ، كَمَا صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَوْ يُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى.
ابو الزبیر مکی کہتے ہیں کہ میں نے نماز فجر اور عصر کے بعد بیت اللہ کو خالی پایا اور کوئی شخص اس کا طواف نہ کرتا تھا۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ان دو اوقات میں بیت اللہ کے خالی ہونے کا مطلب یہی تھا کہ لوگ ان دو اوقات میں نماز کو مکروہ جانتے تھے۔ اور دو رکعت کا طوال کے لیے ہونا ضروری ہے۔ پس اس کوئی کوئی حرج نہیں کہ کوئی شخص اس وقت طواف کرے۔ مگر دو رکعت کو اس وقت تک نہ پڑھے جب تک کہ سورج بلند اور دھوپ صاف نہ ہوجائے۔ جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کیا تھا۔ اگر نماز عصر کے بعد طواف کرے تو نماز مغرب پڑھ کردو رکعت طواف ادا کرے اور یہی ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔