hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 440

.

موطأ الامام محمد

440
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّهُ " مَرَّ بِهِ قَوْمٌ مُحْرِمُونَ بِالرَّبَذَةِ، فَاسْتَفْتَوْهُ فِي لَحْمِ صَيْدٍ وَجَدُوا أَحِلَّةً يَأْكُلُونَهُ، فَأَفْتَاهُمْ بِأَكْلِهِ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَرُ: بِمَ أَفْتَيْتَهُمْ؟ قَالَ: أَفْتَيْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، قَالَ عُمَرُ: لَوْ أَفْتَيْتَهُمْ بِغَيْرِهِ لأَوْجَعْتُكَ "
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) یہ واقعہ عبداللہ بن عمر (رض) کو بیان کررہے تھے کہ میرے پاس سے محرمین کا ایک قافلہ گزرا۔ ( ابوہریرہ بحرین سے آئے تھے اور قافلہ عراق سے آیا تھا دونوں ربذہ میں جمع ہوگئے) انھوں نے شکار کے گوشت کے متعلق سوال کیا جو غیر محرموں نے کیا تھا تاکہ وہ خود کھائیں۔ تو انھوں نے مجھ سے دریافت کیا تو میں نے اس کے کھالینے کا حکم دیا پھر میں مدینہ منورہ پہنچا اور عمر بن خطاب (رض) سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو عمر مجھے کہنے لگے تم نے ان کو کس وجہ سے فتوی دیا۔ میں نے کہا ان کے کھانے کے سبب میں نے ان کو فتوی دیا۔ عمر کہنے لگے اگر تو اس کے بغیر کسی اور وجہ کا فتوی دیتا تو میں تجھے سزا دیتا ( تو حرام یا مکروہ قرار دیتا)