أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ كَعْبَ الأَحْبَارِ أَقْبَلَ مِنَ الشَّامِ فِي رَكْبٍ مُحْرِمِينَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَجَدُوا لَحْمَ صَيْدٍ فَأَفْتَاهُمْ كَعْبٌ بِأَكْلِهِ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «مَنْ أَفْتَاكُمْ بِهَذَا؟» ، فَقَالُوا: كَعْبٌ، قَالَ: «فَإِنِّي أَمَّرْتُهُ عَلَيْكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا» ، ثُمَّ لَمَّا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، طَرِيقِ مَكَّةَ، مَرَّتْ بِهِمْ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَأَفْتَاهُمْ كَعْبٌ بِأَنْ يَأْكُلُوهُ، وَيَأْخُذُوهُ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى عُمَرَ، ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تُفْتِيَهُمْ بِهَذَا؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ هُوَ إِلا نَثْرَةُ حُوتٍ يَنْثُرُهُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ "
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ کعب الاحبار (رح) ایک محرم سواروں کی جماعت ک ٧ یٔ ساتھ شام سے آئے جب وہ راستے میں تھے تو انھوں نے شکار کا گوشت پایا۔ کعب نے انھیں کھالینے کا فتوی دیا۔ عطاء کہ ٧ تٔے ہیں جب یہ لوگ مدینہ منورہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس پہنچے تو ان سے اس مسئلہ کا ذکر کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تمہیں یہ فتوی کس نے دیا ہے۔ انھوں نے کہا یہ فتوی کعب نے دیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں نے تمہاری واپس تک اس کو تمہارا امیر مقرر کیا ہے۔ پھر جب وہ مکہ کے کسی راستے میں ت ہے تو ان کے پاس ایک ٹڈی دل گزرا۔ کعب نے انھیں فتوی دیا کہ اسے پکڑیں اور کھائیں۔ عطاء نے کہا جب وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو ان سے اس کا ذکر ہوا۔ انھوں نے فرمایا کہ تجھییہ فتوی دینے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ کعب نے کہا یہ سمندری شکار ہے۔ کعب نے کہا اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم یہ تو مچھلی کی چھینک ہے۔ جو وہ ہر سال دو بار مارتی ہے۔ ( صاحب الحلی فرماتے ہیں کعب کا یہ جواب غلط تھا مگر مجتہد کی خطاء سے در گزر کی گئی ہے)