hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 45

.

موطأ الامام محمد

45
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، حَتَّى وَرَدُوا حَوْضًا، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: " يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ، لا تُخْبِرْنَا، فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا ". قَالَ مُحَمَّدٌ: إِذَا كَانَ الْحَوْضُ عَظِيمَا إِنْ حُرِّكَتْ مِنْهُ نَاحِيةٌ، لَمْ تَتحَرَّكْ بِهِ النَّاحِيَةُ الأُخْرَى لَمْ يُفسِدْ ذَلِكَ الْمَاءَ مَا وَلِغَ فِيهِ مِنْ سَبُعٍ، وَلا مَا وَقَعَ فِيهِ مِنْ قَذَرٍ، إِلا أَنْ يَغْلِبَ عَلَى رِيحٍ، أَوْ طَعْمٍ، فَإِذَا كَانَ حَوْضًا صَغِيرًا، إِنْ حُرِّكَتْ مِنْهُ نَاحِيَةٌ تَحَرَّكَتِ النَّاحِيَةُ الأُخْرَى، فَوَلَغَ فِيهِ السِّبَاعُ أَوْ وَقَعَ فِيهِ الْقَذَرُ، لا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ، أَلا يُرَى أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَرِهَ أَنْ يُخْبِرَهُ وَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَهَذَا كُلُّهُ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
یحی بن حاطب کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ باہر تشریف لے گئے، ان سواروں میں عمرو بن العاص (رض) بھی تھے۔ چلتے ہوئے وہ پانی کے ایک جوہڑ پر اتری۔ عمرو بن العاص (رض) نے اس حوض کے مالک سے دریافت کیا۔ اے حوض والے ! کیا تمہارے اس حوض پر درندوں کی آمد و رفت ہوتی ہے ؟ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا اے حوض والے ! ہمیں مت بتاؤ کیونکہ کبھی ہم درندوں سے پہلے وارد ہوتے ہیں اور کبھی وہ ہم سے قبل وارد ہوتے ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : جب حوض بڑا ہو کہ اس کی ایک جانب پانی کو حرکت دینے سے دوسری جانب حرکت کا اثر نہیں جاتا۔ تو وہ پانی درندے کے پینے سے نجس نہ ہوگا اور نہ ہی گندگی کے ایک جانب پڑجانے سے دوسری جانب کو نجس شمار کیا جائے گا۔ البتہ اس وقت تمام نجس شمار ہوگا جبکہ پانی پر گندگی کی بدبو یا ذائقہ غالب معلوم ہو۔ اور اگر حوض چھوٹا ہو کا اس کی ایک جانب حرکت دینے سے دوسری جانب حرکت کا اثر پہنچ جائے اور اس میں سے درندہ پانی پی لے یا گندگی اس میں گرجائے تو وہ ( نجس ہوجائے گا) وضو کے قابل نہ رہے گا۔
ذرا غور تو کرو کہ عمر بن خطاب (رض) نے حوض والے کے خبر دینے کو ناپسند کرتے ہوئے اس کو خبر دینے سے روک دیا۔ یہ سب امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے۔