أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَزْرَقِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّا رَكْبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا " أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلالُ مَيْتَتُهُ " , قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ كَغَيْرِهِ مِنَ الْمِيَاهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَالْعَامَّةِ
مغیرہ بن ابی بردہ (رح) نے ابوہریرہ (رض) کو فرماتے سنا کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی اتھاتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں گے۔ کیا ہمیں سمندری پانی سے وضو کی اجازت ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سمندرکا پانی خود بھی پاک اور پاک کرنے والا ہے اور اس کا مرادرا ( مچھلی) حلال ہے۔ (اس روایت کو امام مالک نے باب الاطہور للوضوء میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : ہمارا اسی ارشاد نبوت پر عمل ہے۔ سمندر کا پانی دوسرے پانیوں کی طرح پاک ہے یہی امام ابوحنیفہ اور دیگر عام علماء کا قول ہے۔