hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 47

.

موطأ الامام محمد

47
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ، قَالَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ بِمَاءٍ، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ ضِيقِ كُمَّيْ جُبَّتِهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ قَدْ صَلَّى بِهِمْ سَجْدَةً، فَصَلَّى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكَّعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ، فَفَزِعَ النَّاسُ لَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: قَدْ أَحْسَنْتُمْ "
مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک میں رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ مغیرہ (رض) کہتے ہیں میں پانی لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹے تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ پھر اپنے جُبے کی آستنیوں سے اپنے ہاتھ نکالنے کوشش کی مگر آستنین تنگ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ کرسکے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبے کے نیچے سے ہاتھ باہر نکال لیے اور انھیں دھویا اور اپنے سر کا مسح فرمایا اور دونوں موزوں پر بہی مسح فرمایا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکرگاہ میں واپس تشریف لائے تو اس وقت عبد الرحمن بن عوف (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دوسری رکعت کو ان کے ساتھ ادا فرمایا۔ پہر رہ جانے والی رکعت کو ( امام کے سلام کے بعد اٹھ کر) ادا فرمایا۔ پس لوگ گھبراگئے ( انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کیونکر نہ کیا) جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نماز مکمل کرچکے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یفرمایاگ ” تم نے بہت خوب کیا۔ (اس روایت کو مؤطا امام مالک میں اسی باب کے تحت ذکر کیا گیا ہے) ۔