أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ «يُصَلِّي الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ بِمِنًى، ثُمَّ يَغْدُو إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِلَى عَرَفَةَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: هَكَذَا السُّنَّةُ فَإِنْ عَجَّلَ، أَوْ تَأَخَّرَ، فَلا بَأْسَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں مني میں پڑھتے تھے۔ پھر جب سورج طلوع ہوتا تو عرفات کی طرف روانہ ہوجاتے ( اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب الصلوۃ بمنی یوم الترویہ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ سنت طریقہ یہی ہے اگر وہ اس سے جلدی چلا جائے یادیر سے جائے تو تب بھی ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔