أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَيْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ، فَقَالَ: «كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ حَتَّى إِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ» ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ أَرْفَعُ مِنَ الْعَنَقِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: بَلَغَنَا أَنَّهُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيضَاعِ الإِبِلِ، وَإِيجَافِ الْخَيْلِ، وَبِهَذَا نَأْخُذُ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
عروہ (رح) کہتے ہیں میں اسامہ بن زید (رض) کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ان سے کسی شخص نے سوال کیا ؟ کہ آخری سفر حج میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفات سے واپسی پر کیسی رفتار اختیار فرمائی تھی ؟ اسامہ (رض) نے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درمیان چال اختیار فرمائی۔ جب گنجائش ملتی تو سواری کو بہگا دیتے۔ ہشام کہتے ہیں کہ النص (اونٹ کی چال کا نام ہے) العنق ( یہ بہی اونٹ کی چال کا نام ہے) سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب الیسر فی الدفعہ میں بیان فرمایا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں سکون و وقار کو اختیار کرنا چاہیے۔ اونٹوں و گھوڑوں کو تیز دوڑانے میں نیکی نہیں۔ ہم اسی طو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔