أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ بِعَرَفَةَ فَعَلَّمَهُمْ أَمْرَ الْحَجِّ، وَقَالَ لَهُمْ فِيمَا قَالَ: «ثُمَّ جِئْتُمْ مِنًى، فَمَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ إِلا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ، لا يَمَسَّ أَحَدٌ نِسَاءً، وَلا طِيبًا حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ»
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں حضرت عمر (رض) نے میدان عرفات میں لوگوں کو خطبہ دیا۔ ان کو حج کے احکامات سکھائے اور منجملہ باتوں میں یہ بات بھی فرمائی پھر منی میں آؤگے۔ پس جس نے جمرہ عقبہ کی رمی کی رمی کرلی تو اس کے لیے تمام ممنوعہ باتیں درست ہوگئیں سوائے عورتوں اور خوشبو کے۔ وہ نہ عورتوں کے قریب جائے اور نہ خوشبولگائے جب تک کہ طواف زیارت سے فارغ نہ ہوجائے۔