أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ ثُمَّ حَلَقَ، أَوْ قَصَّرَ، وَنَحَرَ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَهُ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ فِي الْحَجِّ إِلا النِّسَاءَ وَالطِّيبَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَتْ عَائِشَةُ خِلافَ ذَلِكَ قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ بَعْدَ مَا حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ، فَأَخَذْنَا بِقَوْلِهَا، وَعَلَيْهِ أَبُو حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةُ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابن عمر ر ضی اللہ عنہما کہتے ہیں حضرت عمر (رض) کہتے تھے جس نے جمرہ عقبہ کی رمی کرکے حلق یا قصور اور قربانی کرلی جبکہ ہدی اس کو میسر ہو تو اب وہ چیزیں اس کے لیے حرام تھیں وہ اب حلال ہوگئیں۔ مگر عورتیں اور خوشبو طواف زیارت تک حرام رہتی ہیں۔
قول محمد (رح) یہ ہے : یہ حضرت عمر اور ابن عمر (رض) کا قول ہے۔ عائشہ صدیقہ ر ضی اللہ عنہا سے اس کے برعکس روایت وارد ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلق کروالینے کی بعد اور طواف زیارت سے پہلی اپنے ان دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشبو لگائی۔ اس لیے ہم نے عائشہ صدیقہ (رض) عنہا کے قول کو اختیار کیا ہے اور امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء بھی اسی طرف گئے ہیں۔