أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ: " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَدِمَ الْكُوفَةَ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَهُوَ أَمِيرُهَا، فَرَآهُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: سَلْ أَبَاكَ إِذَا قَدِمْتَ عَلَيْهِ، فَنَسِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَسْأَلَهُ حَتَّى قَدِمَ سَعْدٌ، فَقَالَ: أَسَأَلْتَ أَبَاكَ؟ فَقَالَ: لا، فَسَأَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: إِذَا أَدْخَلْتَ رِجْلَيْكَ فِي الْخُفَّيْنِ وُهَمَا طَاهِرَتَانِ فَامْسَحْ عَلَيْهِمَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ مِنَ الْغَائِطِ؟ قَالَ: وَإِنْ جَاءَ أَحَدُكُمْ مِنَ الْغَائِطِ "
عبداللہ بن عمر (رض) کوفہ میں سعد بن ابی وقاص (رض) کے ہاں گئے جبکہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ انھوں نے سعد (رض) کو موزوں پر مسح کرتے پایا تو ان کو یہ بات گراں گزری۔ سعد (رض) نے کہا جب تم مدینہ جاؤ تو اپنے والد سے پوچھ لینا۔ پس عبداللہ جب مدینہ واپس آئے تو اپنے والد سے دریافت کرنا بھول گئے۔ یہاں تک کہ خود سعد (رض) کا مدینہ میں آنا ہوا تو انھوں نے پوجھا کہ کیا تم نے اپنے والد سے اس سلسلہ میں سوال کیا ؟ عبداللہ نے کہا نہیں۔ (انکے یاد دلانے پر) عبداللہ (رض) نے اپنے والد عمر (رض) سے دریافت کیا تو انھوں جواب میں فرمایا ( جب تم اپنے پاؤں موزوں میں اس حالت میں داخل کرو کہ وہ پاک ہوں یعنی تمہارا وضو ہو) تو پھر ان موزوں پر ( آئندہ جب وضو ٹوٹ جانے کے بعد کرنے کا موقعہ آئے تو) مسح کرتے رہو۔ عبداللہ نے سوال کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی رفع حاجت کرکے لوٹے ؟ ( کیا پھر بھی مسح ہی کرے) حضرت عمر نے فرمایا۔ ہاں اگرچہ تم میں سے کوئی رفع حاجت کرنے کی بعد آئے۔ (اس اثر کو امام مالک نے اسی باب میں ذکر فرمایا ہے)