أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ فِي الطِّيبِ قَبْلَ زِيَارَةِ الْبَيْتِ وَنَدَعُ مَا رَوَى عُمَرُ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
قاسم (رح) روایت کرتے ہیں کہ عائشہ صدیقہ (رض) عنہا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کے احرام کی تیاری کے موقعہ پر اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے احرام سے فارغ ہوتے تو طواف زیارت سے پہلے خوشبو لگایا کرتی تھی۔
قول محمد (رح) یہ ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ طواف زیارت سے قبل خوشبو لگانا درست ہے۔ اور عمر اور ابن عمر (رض) والی روایت پر اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا مسلک ہے۔