أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أُحْصِرَ دُونَ الْبَيْتِ بِمَرَضٍ، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَهُوَ يَتَدَاوَى مِمَّا اضْطُرَّ إِلَيْهِ وَيَفْتَدِيَ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: بَلَغَنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَعَلَ الْمُحْصَرَ بِالْوَجَعِ، كَالْمُحْصَرِ بِالْعَدُوِّ، فَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ فَنَهَشَتْهُ حَيَّةٌ فَلَمْ يَسْتَطِعِ الْمُضِيَّ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لِيَبْعَثْ بِهَدْيٍ، وَيُوَاعِدْ أَصْحَابَهُ يَوْمَ أَمَارٍ، فَإِذَا نَحَرَ عَنْهُ الْهَدْيَ حَلَّ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ عُمْرَةٌ مَكَانَ عُمْرَتِهِ، وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کو بیت اللہ تک جانے سے کوئی بماے ری روک دے۔ وہ اس وقت تک حلال نہ ہوگا یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرے، اور وہ اپنے مرض کا علاج کرے اور فدیہ دے۔ ( اس روایت کو مختلف الفاظ کے ساتھ باب ما فیمن احصر بغیر عدو ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے گ کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت پہنچی ہے کہ انھوں نے مرض کی وجہ سے رک جانے والے کو دشمن کی وجہ سے روکے جانے والے کی طرح قرار دیا ہے۔ ان سے شخص کے متعلق دریافت کیا کیا جس نے عمرہ کا ارادہ کیا پھر اس کو سانپ نے ڈس لیا اور وہ جانے کے قابل نہ رہا۔ اس کے جواب میں عبداللہ نے فرمایا وہ قربانی کے اونٹ روانہ کردے اور اپنے ساتھیوں سے ان قربانی کا وقت طے کرلے۔ جب وہ قربانی کردیں تو یہ احرام کھول دے۔ اور اس عمرہ کی جگہ دوسرا عمرہ کرے۔ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور ہمارے عام فقہاء کا قول ہے۔