أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَاهُ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظُهُورِهِمَا لا يَمْسَحُ بُطُونَهُمَا، قَالَ: ثُمَّ يَرْفَعُ الْعَمَامَةَ فَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ ".
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا كُلِّهِ، نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَنَرَى الْمَسْحَ لِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا لِلْمُسَافِرِ، وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لا يَمْسَحُ الْمُقِيمُ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
وَعَامَّةُ هَذِهِ الآثَارِ الَّتِي رَوَى مَالِكٌ فِي الْمَسْحِ، إِنَّمَا هِي فِي الْمُقِيمِ، ثُمَّ قَالَ: لا يَمْسَحُ الْمُقِيمُ عَلَى الْخُفَّيْنِ
ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ کو موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔ وہ موزوں کے مسح کے وقت ان کے اوپر کی جانب مسح کرتے تھے نہ کہ نچلی جانب۔ پھر وہ اپنی پگڑی کو اٹھاتے اور اپنے سر پر مسح کرتے۔
قول محمد (رح) یہ ہے ہم ان تمام آثار پر عمل کرتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی قول ہے۔ مقیم کو ایک دن رات مسح کی اجازت ہے اور مسافر کو تین دن رات مسح کی اجازت ہے۔ امام مالک کہتے تھے کہ مقیم کو موزوں پر مسح کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ ان سے مروی تمام آثار مسح مقیم ہی کے لیے ثابت کرتے ہیں مگر پھر بھی انھوں نے فرمایا کہ مقیم موزوں پر مسح نہ کرے۔