hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 512

.

موطأ الامام محمد

512
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ «فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْحَرَ بَدَنَةً» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ حَجَّهُ، فَمَنْ جَامَعَ بَعْدَ مَا يَقِفُ بِعَرَفَةَ لَمْ يَفْسَدْ حَجُّهُ، وَلَكِنْ عَلَيْهِ بَدَنَةٌ لِجمَاعِهِ، وَحَجُّهُ تَامٌّ، وَإِذَا جَامَعَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ لا يَفْسَدُ حَجُّهُ» ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَالْعَامَّةِ مِنْ فُقَهَائِنَا
ابن عباس (رض) سے ایک شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو طواف افاضہ سے پہلے مجامعت کرلے۔ تو آپ نے فرمایا وہ ایک اونٹ قربانی کے طور پر ادا کرے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : ہم اسی کو اختیار کرنے والے ہیں۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جس نے عرفات میں قیام کرلیاد اس نے حج پالیا۔ جس نے عرفات میں قیام کے بعد مجامعت کی اس کا حج فاسد نہیں ہواد لیکن نجماع کے سبب اس پر ایک اونٹ کی قربانی واجب آتی ہے۔ اس کا حج مکمل ہے۔ اگر اس نے طواف زیارت سے پہلے مجامعت کرلی ہو تو تب بھی یہی حکم ہوگا۔ اس کا حج فاسد نہ ہوگا۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ اور ہمارے عام فقہاء اسی طرف گئے ہیں۔